الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ماں کو طلاق

سوال

زید حالت مرض میں ہے، اس کی ماں اس کے پاس ترکاری پکا کر لائی چوں کہ ترکاری موافق مزاج کے نہیں ہوئی، ماں کو گالی دینے لگا، ماں نے جواب دیا کہ اپنی زوجہ حسینہ کو بلا کر اچھی ترکاری پکا کر کھاؤ، زید نے اس کے جواب میں کہا تجھ کو تین طلاق ہے، یعنی طلاق کی اضافت ماں کی طرف کی اس اضافت میں اس کی زوجہ مطلقہ ہوگی نہیں؟ اگر ہو تو جواب بحوالہ کتاب دیں۔

جواب

نہ زوجہ کو خطاب کیا نہ اس کی طرف اشارہ کیا نہ نام لیا، نہ ضمیر راجع کی، غرض کسی طرح بھی طلاق کی اضافت اپنی منکوحہ کی طرف نہیں کی بلکہ غیر منکوحہ کو خطاب کر کے طلاق دی ہے، پس شرعاً طلاق واقع نہیں ہوگی: ومحله المنكوحة صريحه مالم يستعمل الا فيه كطلقتك وانت طالق ومطلقة بالتشديد قيد بخطابها لأنه لو قال ان خرجت يقع الطلاق أو لا تخرجي إلا بإذني فاني حلفت بالطلاق فخرجت لم يقع لتركه…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو