سخت سردی میں غسل کا حکم !
سوال
جہاں پر میں ہوں وہاں پر برف پڑتا ہے پانی کئی کئی فٹ برف کے نیچے ملتا ہے، شدید سردی پڑتی ہے اگر رمضان کے مہینہ میں کسی کو احتلام ہو جائے اور سردی کی شدت کی وجہ سے وہ غسل نہ کر سکے تو اس کا کیا مسئلہ ہے؟
جواب
اگر پانی گرم کرنے کا کوئی انتظام نہیں ہے اور ٹھنڈے پانی سے غسل کرنے سے بیمار ہو جانے کا قوی اندیشہ ہو تو اس وقت تیمم کرلے اور نماز پڑھ لے پھر پانی گرم کر کے غسل کرے گا اس سے روزہ میں بھی خلل نہیں آئے گا۔ جواب صحیح ہے اور اگر گرم پانی بھی نقصان کرتا ہو یا نقصان کرنے کا تجربہ یا قوی اندیشہ ہو تو گرم پانی سے بھی جب تک نقصان کرنے کا گمان ہو غسل کرنا ضروری نہیں ہوگا، تیمم کافی رہے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔