مرض کی وجہ سے تیمم
سوال
ایک طبیب مسلمان بعض مخصوص مرض کے متعلق اپنے آپ کو حاذق کہتا ہے اور بعض رجال بھی کہتے ہیں کہ فلاں اور فلاں مرض کی دوا اس کے پاس بہ نسبت دوسروں کے اچھی ہیں وہ دوا کے استعمال کے بعد اغتسال کے بجائے تیمم کا حکم لگاتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر غسل فرض ہو تب بھی تیمم کرو۔
جواب
اگر حاذق دیندار طبیب یہ کہتا ہے غسل کرنے سے مرض میں ترقی ہو جائیگی یا دیر میں اچھا ہوگا تو تیمم درست ہے تیمم لبعده ميلا عن ماء او لمرض كنز قال الزيلعي واما المرض فمنصوص عليه سواء خاف ازدياد المرض او طوله باستعمال الماء الخ وفي الدر المختار او لمرض يشتد او يمتد بغلبة ظن او قول حاذق مسلم قال شامی ای اخبار طبیب حاذق مسلم غير ظاهر الفسق وقيل عدالته شرط (رد المحتار)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔