بیماری کے وہم کی بناء پر تیم
سوال
اگر غسل کرنے میں بار بار کا تجربہ نہیں ہے مگر جب بھی غسل کرتا ہے۔ کچھ نہ کچھ ہوتا ضرور ہے تب کیا کیا جائے؟ بعض دفعہ ضعف قلب اور ضعف طبیعت کی بناء پر وسوسہ پیدا ہوتا ہے کہ غسل و وضو سے شاید طبیعت خراب ہو جائے اس بناء پر تیمم کر لیا جائے یا طبیعت سست ہوئی اور تیمم کر لیا کہ کہیں خراب نہ ہو جائے۔
جواب
محض کم ہمتی، وہم کوئی چیز نہیں ہے ہاں اگر بار بار کا تجربہ ہو کہ غسل یا وضو کرنے سے بیماری ہو جاتی ہے یا بیماری میں اضافہ ہو جاتا ہے تو تیمم کی اجازت ہے پھر جب یہ عذر باقی نہیں رہا تو غسل کر لینا لازم ہے تاکہ دوسری نماز با غسل ادا ہو لیکن اگر عذر ایسے وقت ختم ہوا کہ کسی نماز کا وقت نہیں مگر غسل نہیں کیا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔