الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

غسل مضر ہو وضو مضر نہ ہو تو تیمم کا حکم

سوال

آیا اس صورت میں غسل کے بجائے تیمم کرے یا نہیں نیز وضو کے متعلق کہتا ہے کہ کر لیا کرو تو غسل کا ہی تیمم کافی ہے یا وضو کرنی چاہئے، آپ فرمائیں کہ صورت مذکورہ میں قول طبیب معتبر ہے یا نہیں اور احتیاطاً ان نمازوں کا اعادہ ضروری ہے یا نہیں۔

جواب

اگر رفع جنابت کے لئے تیمم کیا ہے تو یہ کافی ہے اسکے بعد وضو کی ضرورت نہیں ہاں اگر بعد میں کوئی شئی ناقض وضو پیش آئے تو اس کیلئے وضو کرنا چاہئے۔ إذا تيمم عن جنابة ثم بال مثلاً فهذا ناقض للوضوء لا ينتقض به تيمم الغسل بل ينتقض طهارة الوضوء شامي ایسی حالت میں جتنی نمازیں پڑھی ہیں ان کا اعادہ فرض نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو