ماء مستعمل سے ازالہ نجاست!
سوال
بعض کتب فقہ میں لکھا ہے کہ ماء مستعمل کے ذریعہ نجاست حقیقیہ کا ازالہ جائز ہے یہ کیونکر ہے جب کہ قول مفتی بہ کی بنا پر ماء مستعمل طاہر غیر مطہر ہے پھر تخصیص نجاست حقیقیہ کے ساتھ کون سی دلیل سے کی گئی ہے کیا نجاست حقیقیہ کی دونوں قسمیں مرئیہ و غیر مرئیہ نیز نجاست حکمیہ کی تطہیر ماء مستعمل سے نہیں ہو سکتی؟
جواب
اشکال : در مختار کی عبارت سے بظاہر جو سمجھ میں آرہا ہے اس وضاحت کا عکس معلوم ہورہا ہے جو جواب میں آنجناب نے تحریر فرمایا ہے اس لیے احقر نے بھی بعض اہل علم کی طرف رجوع کیا تھا نیز غایۃ الاوطار ص ۹۷، میں بھی اس کا ترجمہ دیکھا گیا اس میں قول راجح کی بناء پر ماء مستعمل کے ذریعہ ازالہ نجاست حقیقیہ کا جواز مصرح ہے اس لیے آنجناب سے دوبارہ تکلیف دہی کی درخواست ہے کہ براہ کرم دوبارہ اس…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔