بیت الخلاء قبلہ کے رخ پر
سوال
ایک صاحب خیر نے اپنی مشتر کہ آمدنی سے امام مسجد کیلئے بیت الخلاء تعمیر کرایا جس کا استعمال ہر ایک شخص کریگاوہ بھی صرف رات میں، ورنہ ہمہ وقت مقفل رہیگا، عمارت کی مناسبت سے طہارت وصفائی کے لحاظ سے جس رُخ پر قدمچے بن گئے ہیں اب خیال ہوا کہ ان پر ارتکاب استقبال قبلہ (جو بین الائمہ مختلف فیہ ہے) ہوگا کیا اس سے بچنے کیلئے قدرے انحراف صدر کافی ہو سکتا ہے، بصورت دیگر اگر قدمچے توڑ دیئے جائیں تو اضاعت مال مسلم نہ ہوگا۔
جواب
صرف انحراف صدر تو حنفیہ کے نزدیک کافی نہیں اگر بیٹھنے کی ہیئت ایسی ہو جائے کہ شمال یا جنوب کا رُخ ہو جائے اور استقبال نہ رہے تو درست ہے، مگر اس بیت الخلاء کی تخصیص و تقلید ہمیشہ تو رہے گی نہیں بلکہ ختم ہو کر دوسرے لوگ بھی کسی وقت استعمال کریں گے اور موجودہ حال میں بھی کسی اور وقتی مہمان وغیرہ کا استعمال کرنا بھی بعید نہیں اس کی موجودہ ہیئت کے غیر مشروع ہونے کا سب کو علم ہونا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔