الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نا پاک گنے کے ٹکڑوں کو کنواں میں ڈالنے سے پانی کا حکم

سوال

جامع مسجد کے کونہ میں ایک کنواں ہے اس کنویں میں ہندو مسلمان جب ضرورت ہوتی ہے پانی بھرتے ہیں اور کنویں کی مینڈھ سطح زمین سے ایک گز اونچی ہے، کنویں کے پاس سے ہندو مسلمان کے بچے گزرتے ہیں، سڑک میں سے ناپاک گنوں کے ٹکڑے جو کہ نالی میں سے بھنگی صاف کر کے ایک طرف ڈالتا ہے وہ اسی کنویں میں ڈال دیتے ہیں۔ مسجد کے نمازیوں کیلئے پانی اسی کنویں سے استعمال ہوتا ہے۔ مسجد کے نمازی نہ تو کنویں کی مینڈھ اونچی کرتے ہیں اور نہ ہی اس پر جالی ڈالتے ہیں، ایسی صورت میں وہ کنواں پاک ہے یا نہیں؟

جواب

جب کنویں میں کسی ناپاک چیز کا گرنا ثابت ہو جائے تو کنواں ناپاک ہو جائے گا۔ مینڈھ اونچی کرا کر یا جس طرح مناسب ہو حفاظت کا انتظام کیا جائے اور محض شبہ کی وجہ سے کنویں کو نا پاک نہیں کہا جائے گا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو