سور پانی میں گرا اس کے پانی کا حکم
سوال
زید کے کنویں کے اندر سور گرا، گرنے کے بعد تقریباً آٹھ گھنٹہ کنویں کے اندر رہا سور کے منہ میں چوٹ لگی اور خون نکل رہا تھا جو سب پانی میں ملتا جا رہا تھا۔ سور کی گردن میں رسی پھنسا کر زندہ نکال لیا گیا۔ کنویں کا پانی نکالنے کی مزدوری میں سور کو طے کیا گیا کہ جو پانی نکالے گا اس کو یہ سور دیا جائے گا۔ ایک شخص تیار ہو گیا وہ سور لے گیا اور پھر اندازے سے آدھے کنویں کا پانی نکالا گیا اور بس پھر پانی نہیں نکالا گیا جب کہ پورا پانی نکالا جاسکتا تھا لیکن زید نے نہیں نکلوایا اور استعمال شروع کر دیا۔
جواب
ایسی صورت میں تمام پانی نکالنا ضروری تھا۔ اگر تمام پانی نکالا جا سکتا ہے یہ ایسا نہیں کہ پانی ہر وقت پیدا ہوتا رہے اور ختم ہی نہ ہو۔ اور پھر بھی آدھا پانی نکالا گیا تو کنواں پاک نہیں ہوا، نا پاک رہا اس پانی سے وضو اور غسل بھی نا جائز ہے کپڑے اور برتن کا دھونا بھی نا جائز ہے۔ کھانے پینے میں بھی اس کا استعمال نا جائز ہے، مزدوری میں سور دینا بھی نا جائز ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔