کنویں میں سے جو تا نکلا اس کے پانی کا کیا حکم؟
سوال
ایک مسجد میں ایک کنواں ہے اس کا کیچڑ چھ سات سال میں نکالا جو امسال بالکل خشک ہو گیا لیکن اس کے درمیان میں گاہ بگاہ جب کبھی ناپاک ہو جاتا تھا اس کا پانی توڑ دیتے تھے اس میں سے ایک جوتا بالکل بوسیدہ ۲؍۳ ٹکڑے نکلے اب شرع شریف سے جو نمازیں پڑھیں ہیں تو کسی قسم کا نقص تو نہیں آیا یا مسجد کا کوئی ناپاکی وغیرہ کا حکم تو نہیں ہے، اگر ہو تو تحریر فرمادیں تا کہ اس کے موافق عمل کیا جائے۔
جواب
جوتا اگر نا پاک تھا تو اس سے کنواں بھی نا پاک ہو گیا اور جس وقت جوتا کنویں میں دیکھا گیا ہے اسی وقت سے کنویں کو نا پاک کہا جائے گا اس سے پہلے کی نماز، وضو غسل کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔ مسجد کا لوٹا وغیرہ بھی کچھ نا پاک نہیں اور اگر نا پاک جوتہ گرنے کا وقت معلوم ہے تو اس وقت سے کنویں کو نا پاک سمجھنا چاہیئے اور اس ناپاک پانی کو وضو، غسل برتن وغیرہ میں استعمال کیا ہو تو برتن وغیرہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔