الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

جس کنویں میں جنبی شخص اترا وہ اور پانی پاک ہے یا نا پاک؟

سوال

ایک شخص کو احتلام ہوا، جب وہ خواب سے بیدار ہوا تو بغیر استنجاء پاک کئے غسل کرنے کے لئے کنویں میں اترا یہ کنواں دہ دردہ نہیں تھا، اس صورت میں کیا وہ شخص طاہر ہو گیا یا نہیں؟ نیز کنویں کا پانی طاہر و مطہر رہے گا یا نہیں؟ نیز اگر وہ شخص استنجاء اور بدن سے نجاست دور کرنے کے بعد غسل جنابت کیلئے کنویں میں اترے تو اس صورت میں کنویں اور شخص مذکور کا کیا حکم ہے؟ براہ کرم مفصل و مدلل جواب مرحمت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔

جواب

اگر پانی سے استنجا نہیں کیا بلکہ بدن پر نجاست حقیقیہ موجود تھی تو وہ طاہر نہیں ہوا اور تمام پانی نجس ہو گیا، اس پانی کی وجہ سے تمام بدن بھی نجاست میں ملوث ہو گیا، اگر پانی سے استنجا کر کے نجاست حقیقیہ کو زائل کر چکا تھا تو اصح یہ ہے کہ وہ آدمی طاہر ہو گیا اور پانی مستعمل ہو گیا لیکن صرف اس قدر پانی مستعمل ہوا جو کہ اس کے اعضاء کے ساتھ متصل ہو کر منفصل ہوا ہے تمام پانی مستعمل…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو