عصر کی نماز وقت کامل میں شروع کی ناقص میں ختم کی
سوال
سبب وجوب نماز جزء متصل الادا ہوتا ہے، اس بنا پر علماء احناف یہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص عصر کی نماز وقت مکروہ میں شروع کیا اور پھر اثنائے صلاۃ میں آفتاب غروب ہو گیا تو اس کی نماز صحیح ہوگئی، کیونکہ اداہ کما وجب پایا گیا، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اگر کوئی شخص عصر کی نماز وقت کامل میں شروع کرے اور نیت باندھنے کے بعد وقت ناقص شروع ہو گیا لیکن ابھی آفتاب غروب نہیں ہوا ہے تو اس کی یہ نماز صحیح ہوگی یا نہیں؟ شبہ کی وجہ یہ پیش آئی کہ اداہ کما وجب نہیں پایا گیا۔
جواب
اسکی یہ نماز صحیح ہوگئی، آپ کا شبہ اور اس کا جواب شرح منیۃ المصلی ص ۲۴۷، میں مذکور ہے، قديقال فينبغي أنه لو شرع فيها اول الوقت قبل الاصفرارثم اصفرت وهو في خلالها ان تفسد لعروض النقصان على ما وجب بالسبب الكامل والجواب ان الشرع لما جعل للمكلف شغل كل الوقت بالعبادة وهو العزيمة فقد اغتفر في حقه مالا يمكن ذلك الا به لكونه من جملة اجزاء الوقت به.
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔