مثل واحد پر عصر پڑھنے کی تفصیل
سوال
اس ادارہ میں کوکن کے اور کچھ دوسرے علاقہ سے حنفی طلباء بھی تعلیم پاتے ہیں اور چند مدرسین بھی حنفی المسلک ہیں سوال در پیش یہ ہے کہ چونکہ ہم شوافع کے نزدیک عصر کا وقت ایک مثل کے بعد ہوتا ہے اور احناف کا مسلک دومثل کا ہے، لہذا یہ طلباء و مدرسین شوافع کے ساتھ عصر کی نماز ادا کریں تو درست ہوگی یا نہیں؟ اس سلسلہ میں چند امور ضرور ملحوظ خاطر رہیں (۱) صاحبین ایک مثل کے قائل ہیں (۲)
جواب
مستقلاً ہمیشہ مثل واحد پر نماز عصر ادا کرنا گویا امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے مذہب کو ترک کرنا ہے، اسلئے ایسا نہ کیا جائے کبھی اتفاقیہ ایسی نوبت آجائے تو امر آخر ہے، اگر مثلین پر نماز ادا کی جائے تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ و امام شافعی رحمہ اللہ دونوں حضرات کے نزدیک بالاتفاق نماز ہو جائے گی، اگر مصالح سمجھ کر یہ صورت اختیار کر لی جائے کہ مثلین پر سب آمادہ ہو جائیں تو اعلیٰ بات…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔