عصر کی نماز مثلین سے پہلے
سوال
آج کل ہمارے یہاں ساڑھے چھ بجے غروب آفتاب ہے اگر مسجد میں ساڑھے چار بجے اذان عصر اور جماعت پونے پانچ بجے ہو تو فقہ حنفی کی رو سے یہ اذان اور جماعت عصر دونوں قبل از وقت سمجھی جائیں گی اور دونوں واجب الاعادہ ہوں گی یا صرف اذان قبل از وقت سمجھی جائیں گی؟ اور عصر کی نماز صحیح ہوگی یا نہیں؟
جواب
اگر مثلین پر جماعت عصر ہوئی تو بالاتفاق اس کا اعادہ نہیں، اذان کچھ پہلے ہوئی ہو تو اس کی وجہ سے جماعت کا اعادہ لازم نہیں ہوتا مثلین سے کچھ پہلے مثل واحد کے بعد جو جماعت ہو جائے اس کا بھی ایک قول پر اعادہ نہیں، علمائے احناف حرمین شریفین میں پڑھی ہوئی نماز کا اعادہ نہیں کرتے جو کہ بالیقین مثلین سے پہلے ہوتی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔