الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ایک مثل پر عصر کی نماز

سوال

زید نے سایہ اصلی کے علاوہ ایک مثل ہونے پر عصر کی نماز پڑھی زید امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا مقلد ہے، اس کی نماز ہوگئی یا اعادہ واجب ہے؟ اگر نماز ہوگئی تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ عصر کا وقت ہے اور ظہر کا وقت نکل گیا اب اگر عمر اپنی بیوی سے یہ کہے کہ اگر میں آج کی ظہر کی ادا پڑھوں تو تین طلاق ہے اور ایک مثل کے بعد دو مثل پورے ہونے سے پہلے ظہر پڑھی تو عمر کی بیوی کا کیا حکم ہے؟ مدلل تحریر فرمائیں۔

جواب

حنفیہ کو صاحبین کے قول کے موافق اس نماز کا اعادہ لازم نہیں، نماز صحیح ہوگئی، امام طحطاوی رحمہ اللہ نے کہا ہے۔ وبقولهما نأخذ امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ظہر کا وقت سایہ اصلی کے علاوہ دو مثل ہونے تک رہتا ہے، اس لحاظ سے شخص مذکور کی ظہر کی نماز ادا ہوئی، صاحبین کے نزدیک ایک مثل تک رہتا ہے، اس اعتبار سے اس کی یہ ظہر کی نماز قضا ہوئی، دونوں قولوں کو مختلف حضرات فقہاء نے…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو