الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

امام نے سہو کے گمان پر سجدہ سہو کیا

سوال

(۱) اگر منفرد یا امام نے اپنے گمان کی بنا پر سجدہ سہو کر لیا اور بعد فراغت معلوم ہوا کہ سجدہ سہو واجب نہ تھا تو ایسی صورت میں نماز کا اعادہ ہو گا یا نہیں اور اگر اعادہ ہوگا تو فرض کے درجہ میں یا واجب کے درجہ میں، عبارات ذیل سے عدم اعادہ معلوم ہوتا ہے۔والعبارات الفقهيه هذا وقيل لا تفسد و به یفتی سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس مسبوق کی نماز کا حکم ہے جس نے امام مذکور کی متابعت کی ہے اور آخر کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ خود امام کی نماز کا حکم بیان ہو رہا ہے جس نے بر بناء ظن سجدہ سہو کر لیا ہے اس لئے کہ قراء سے مراد غالبا…

جواب

الجواب: اور جب کہ علم نہ ہو کہ اس سہو سے سجدہ سہو لازم ہے یا نہیں تو سجدہ سہو کر لینا احوط ہے۔ فتاوی دارالعلوم کا نام تو مدلل ہے مگر اس میں مسئلہ پر دلیل مذکور نہیں، امید ہے کہ اس مسئلے پر جلد غور فرما کر جواب سے سرفراز فرمائیں گے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو