الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

سجدہ تلاوت موخر کرنے سے سجدہ سہو

سوال

تراویح میں حافظ قرآن نے آیت سجدہ پڑھی اور سجدہ اس مقام پر نہیں کیا بلکہ رکوع دو رکوع کے بعد پھر سجدہ مع مقتدیوں کے کیا تو کیا سجدہ قرآن درست ہوا یا نہیں، بعد سلام کے مع مقتدیوں کے سجدہ کر لیا تو درست ہوا یا نہیں؟ اگر سجدہ سہو کرے تو ادا ہو گا یا نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں سجدہ ذمہ سے ساقط ہو گیا لیکن تاخیر کی وجہ سے ایسی صورت میں سجدہ سہو واجب ہوتا ہے اور جو سجدہ حالت نماز میں امام پر تلاوت کی وجہ سے واجب ہوتا ہے وہ خارج نماز میں ادا کرنا درست نہیں بلکہ نماز ہی میں ادا کیا جائے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو