غلطی سے سجدہ سہو کر لیا گیا پھر معلوم ہوا کہ سجدہ سہو واجب نہیں تھا
سوال
نماز میں ایسی غلطی ہوئی جس سے سجدہ سہو واجب نہیں ہوتا اگر لاعلمی میں سہو سمجھ کر سجدہ سہو کر لیا تو نماز ہوئی یا نہیں؟ ایک مولوی صاحب نے بتایا کہ نماز نہیں ہوئی نماز لوٹا لی جائے اس لئے اعادہ کیا گیا اگر موصوف کے کہنے کے مطابق نماز نہیں ہوئی اور یہ بات کچھ روز کے بعد معلوم ہوئی تو پھر کیا کیا جائے؟
جواب
نماز ہوگئی لوٹانے کی ضرورت نہیں تھی اب کسی مکافات کی ضرورت نہیں ولوظن الامام السهو فسجد له فتابعه فبان ان لاسهوفا لاشبه الفساد لاقتدائه في موضع الانفراد اه در مختار وفي الفيض وقيل لا تفسد و به يفتى وفى البحر عن الظهيرية قال الفقيه ابو الليث في زماننا لا تفسد لان الجهل فى القراء غالب اھ شامی ص ۴۰۳ ج ۱، نعمانيه، باب الامامة.
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔