الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

گمان سے سجدہ سہو کرنا

سوال

اگر زید کو وتر کی آخری رکعت میں (بحالت تشہد) غالب گمان ہوا کہ اس نے دعائے قنوت نہیں پڑھی ہے، تشہد کے بعد زید نے سلام پھیرا اور سجدہ سہو کی نیت سے سجدہ میں گیا، ابھی سجدہ اولی میں پہونچا تھا کہ اچانک یقین ہو گیا کہ دعائے قنوت پڑھی تھی اس نے سجدہ سہو کو پورا کر لیا اس کے بعد اپنی نماز پوری کر لی زید کی نماز ہوئی یا نہیں مفصل تحریر فرمائیں۔

جواب

نماز ہو گئی اس میں زائد از زائد یہ ہوا کہ سلام اور دو سجدے اور ایک قعدہ وتر سے زائد ادا کیا تو کہا جائے گا کہ جب سجدہ سہو کیلئے سلام پھیرا تو وہی سلام قطع صلوۃ کا سا تھا، اوراسی پر نماز وترختم ہو گئی تھی پھر جو کچھ کیا وہ نماز سے خارج کیا اسکی وجہ سے نماز پر اثر نہیں پڑیگا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو