الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

سجدہ سہو بھول سے رہ گیا

سوال

اگر سجدہ سہو بھولے سے رہ جائے تھوڑی دیر بعد معلوم ہوا تو نماز کو لوٹانا ضروری ہے یا نہیں؟ اگر اعادہ ضروری ہے تو تمام نمازوں میں یا خاص ظہر وعشاء کی نمازوں میں؟

جواب

اگر سجدہ بھولے سے رہ جائے اور کوئی کام نماز کے خلاف نہ کیا پھر یاد آئے تو سجدہ سہو کر کے نماز پوری کرے ورنہ دوبارہ پڑھے خواہ کوئی سی نماز ہو سجدۂ سہو کیلئے اس مسئلہ میں ظہر وعشاء کی تخصیص نہیں، فجر، عصر، مغرب کا بھی یہی حکم ہے، کتب فقہ، درمختار وغیرہ میں تفصیل مذکور ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو