آدمی صاحب ترتیب کب کہلائے گا
سوال
زید کی ایک دو وقت کی نماز بعد از بلوغ قصد سے یا بلا قصد تساہل یا عذر کی وجہ سے فوت ہوگئی اس حال میں کیا عند الشرع صاحب ترتیب شمار کیا جائے گا اور جب تک اس کو ادا نہیں کرلے گا بعد کی نمازیں درست ہوں گی اور اگر بعد از بلوغ وہ بے نمازی تھا اور کچھ مدت مکلفہ گذر جانے کے بعد تائب ہو کر نمازی ہوا اس حالت میں بھی وہ صاحب ترتیب ہو سکتا ہے یا نہیں؟ اور فوائت نماز کا ترتیب سے ادا کرنا ضروری ہوگا یا بلا ترتیب پھر غیر صاحب ترتیب کی طرح مقدم مؤخر کیف ما شاء ادا ہو جائیں گی مفصل شرح سے شرح صدر فرمایا جائے۔
جواب
ترتیب فرائض خمسہ اور وتر میں لازم اور ضروری ہے ادا میں بھی قضاء میں بھی ایک دو وقت کی نماز قضا ہو جانے کی وجہ سے ترتیب ساقط نہیں ہو جاتی لہذا جس صاحب ترتیب کے ذمہ ایک نماز فائتہ موجود ہے اس کو بلا عذر و تنگی وقت و نسیان وقتیہ نماز پڑھنا درست نہیں جب تک اس فائتہ کو پہلے نہ پڑھ لے اگر ایسی حالت میں وقتیہ کو پڑھے گا تو وہ وقتیہ موقوف رہے گی اگر چھ وقتیہ نمازیں پڑھنے سے پہلے فائتہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔