جس کی قضا نمازیں باقی ہوں کیا وہ نوافل نہ پڑھے
سوال
نوافل کے جو فضائل بیان کئے گئے ہیں وہ فرائض واجبات کی مکمل پابندی کے بعد میں ہے، چنانچہ بزرگوں نے فرمایا ہے کہ جب تک قضاء عمری نماز ادا نہ کی جائے جب تک نوافل کی جگہ قضائے عمری پڑھے، چاشت وغیرہ یا پنجگانہ۔
جواب
جس شخص کے ذمہ فرض نمازیں قضا باقی ہوں اس کو چاہئے کہ قضا نماز پڑھنے کا اہتمام کرے ایسی حالت میں نوافل کا اہتمام کرنا اور قضا کونہ پڑھنا پسندیدہ نہیں، خلاف دانشمندی بھی ہے اگر چہ یہ حکم نہیں لگایا جائے گا کہ نفلیں فاسد ہو گئیں ایسے شخص کو چاہئے کہ رات اور دن کی نفلیں اشراق، چاشت، اوابین، چاشت، اوابین، تہجد وغیرہ ظہر و عصر کے اوقات میں بجائے ان نفلوں کے قضا نمازیں پڑھا کریں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔