جہل سے ترتیب ساقط ہو جاتی ہے یا نہیں؟
سوال
ترتیب کے ساقط کرنے میں جہل کا اعتبار ہے یا نہیں؟ غایہ الاوطارص ۳۳۴ ج امیں تو اعتبار کیا ہے۔ من جهل فريضة الترتيب يلحق بالناسي واختاره جماعة من أئمة بلخ لیکن مراقی الفلاح میں بیان کیا ہے کہ جہل کا اعتبار نہیں ولا يعتبر الجهل. وعبارة النقاية في حق الترتيب ولو جاهلاً به. مراقی ص ۲۱۵ مفتی بہ کونسا قول ہے؟
جواب
ظاہر روایت میں تو جہل مسقط ترتیب نہیں ہے۔ لیکن ایک روایت میں امام صاحب سے بواسطہ حسن بن زیاد اس کے خلاف بھی منقول ہے اور اس کو بہت سے مشائخ نے اختیار بھی فرمایا ہے۔ کذافی البحر الرئق ص ۸۴ ج ۲ ومنحة الخالق ص ۸۴ ج ۲ وطحطاوي على المراقي ص ۳۶۰ ج ۱ والدر المختار ص ۲۸۳ ج ۱.
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔