الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

امام کا دو مرتبہ ختم کرنا تراویح میں

سوال

ایک حافظ نے ایک مسجد میں ماہ رمضان شریف میں دس بارہ یوم کے اندر قرآن شریف تراویح میں سنا کر ختم کیا، پھر دوسری مسجد میں جہاں لوگوں نے قرآن شریف کا ختم نہیں سنا، اگر ان میں حافظ نے تراویح کا ختم سنایا ہے، کیا یہ درست ہے، مقتدیوں کو تمام رمضان شریف میں ایک دفعہ قرآن سننا سنت تھا، اور حافظ قرآن شریف کو ایک دفعہ سنانا سنت،کیا تراویح میں اور ثواب میں امام اور مقتدیوں کے لئے کوئی فرق تو نہ ہوگا۔

جواب

اس صورت میں مقتدیوں کو سنت کا ثواب ہوگا، اور امام کو فضیلت کا ثواب ملے گا، کمی کسی کے ثواب میں نہ ہوگی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو