الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ایک شب میں قرآن ختم کرنا

سوال

زید نے کہا کہ تلاوت قرآن پاک ایک شخص ایک شب میں نہیں کر سکتا، اگر کسی نے کیا تو سنت کے خلاف کیا، قرآن پاک کی تلاوت ترتیل کے ساتھ کرنے کا حکم ہے، ایک شب میں جس نے تلاوت کر کے لوگوں کو سنایا وہ قرآن کا حق ادا نہ کیا خلاف سنت ہے، قرآن کی بعض آیات یا تمام آیات کو جلد جلد پڑھنے کا حکم شرعا نہیں ہے، کیونکہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ کم از کم تین دن میں تلاوت کیا کرو جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم نہ مانا وہ گنہگار ہے، اس پر بکر نے کہا کہ ایک شب میں تلاوت قرآن کرنا درست ہے، ہمارے علاقہ میں…

جواب

حدیث پاک میں تین شب سے کم میں ختم قرآن پاک کو نا پسند فرمایا گیا ہے اس میں پورے تدبر کا عموماً موقع نہیں ملتا ہے اس کے باوجود صحابہ کرام اور بہت سے اولیاء عظام سے تین شب سے کم میں بلکہ ایک شب میں بلکہ ایک رکعت میں پڑھنا بھی منقول ہے، بلکہ ایک رات میں کئی کئی مرتبہ قرآن ختم کرنا بھی منقول ہے؟

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو