لیلۃ القدر میں تنہا عبادت شبینہ سے افضل ہے
سوال
رمضان المبارک کی شب قدر افضل ہے، ۲۷ شب کو عبادت کرنا، تلاوت قرآن نفل نماز، درود واستغفار وغیرہ یا شبینہ میں جا کر ختم قرآن میں شرکت کرنا، ان دو عملوں میں سے کون ساعمل بہتر ہے۔
جواب
آج کل شبیہ میں اس قدر مفاسد پیدا ہو گئے ہیں، کہ اس کے جواز ہی میں کلام ہے چہ جائیکہ افضل ہو لہذا تنہا عبادت افضل ہے کہ مثلاً اس کیلئے چندہ کرنا جس میں حدود کی رعایت نہیں ہوتی، روشنی وغیرہ میں اسراف، تداعی واہتمام قراءت کے وقت امام کا اتنا تیز پڑھنا کہ حروف بھی صحیح ادا نہ ہوں، ارکان صلوۃ واجبات کو بھی اطمینان سے ادا نہ کرنا چہ جائیکہ سنن و مستحبات، بعض لوگوں کا لیٹے بیٹھے رہنا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔