الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

شبینہ مروجہ

سوال

(۱) شبینہ مروجہ میں پورا قرآن شریف تراویح میں پڑھنا اور مصلیان کا کھانا حفاظ شبینہ پڑھنے والوں کیلئے لانا، حفاظ کا کھانا جائز ہے یا نہیں؟ (۲) رمضان شریف میں ختم قرآن شریف پر شیرینی تقسیم کرنا جائز ہے یا نہیں؟ باوجود یکہ مستورات اور بچوں اور مردوں کا ہجوم و ہنگامہ اور شور وشغب ہوتا ہے اور بجائے ایک حصہ کے بعض شوخ چشمی سے دوسرا حصہ لینے سے بھی اجتناب نہیں کرتے اور مٹھائی تقسیم نہ کرنے پر مصلیان مسجد مورد ملامت ہوں۔ بینوا توجروا۔

جواب

نفس ختم قرآن شریف خصوصاً نماز میں موجب اجر اور موجب سعادت و برکت ہے، بشرطیکه التزام مالا یلزم اور عوراض محظورہ سے خالی ہو، شبینہ مروجہ میں چند عوراض ایسے ہیں جو کہ مثل لازم غیر منفک کے ہیں۔ اولا: عام طور پر ریا اور فخر کیلئے شبینہ کیا جاتا ہے، اخلاص نہیں ہوتا، چنانچہ اہلِ محلہ اور حفاظ دوسرے اہلِ محلہ وحفاظ کے مقابلہ میں کہتے ہیں کہ ہماری مسجد میں صرف اتنی دیر میں ختم ہوا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو