شبینه
سوال
(۱) غیر رمضان میں تین شخصوں کی جماعت کر کے ایک کلام اللہ ایک ہی شب میں ختم کرنا جائز یا نہیں؟ (۲) اور رمضان المبارک میں شب قدر میں یعنی پانچ راتوں میں تہجد کی نماز با جماعت کر کے ایک کلام اللہ ختم کرنا کیسا ہے، بشرطیکہ اس جماعت میں تین آدمیوں سے زیادہ شریک ہوں؟ (۳) نیز اگر رمضان میں تراویح میں ایک قرآن شریف ایک ہی شب میں طلوع فجر سے قبل ختم کر دیا جائے تو اس میں کوئی حرج تو نہیں ہے اور اس صورت میں جو قرآن شریف پڑھا گیا اس کا ثواب اس کے پڑھنے والے کو ملا یا نہیں؟ جوابات بحوالہ کتب معتبرہ عنایت فرمائیں۔
جواب
(۱) اگر یہ سب شوقین ہیں اور دل لگا کر سنیں تو جائز ہے اگر شوق نہیں اظہار فخر کے لئے ایسا کریں تو نا جائز ہے۔ (۲) تین آدمیوں سے زیادہ نفل نماز با جماعت مکروہ ہے۔ (۳) اس کا جواز بھی موقوف ہے، سب کے شوق پر اگر سب نے شوق سے دل لگا کر سنا تب تو جائز ہے، اگر گرانی سے جبراً سنایا فخر کیلئے سنا یہ ممنوع ہے، ایسی حالت میں تمام رمضان شریف میں ایک قرآن شریف ختم کرنا چاہئے بلکہ اگر سامعین…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔