امام تراویح کی خدمت کرنا
سوال
زید رمضان شریف میں تراویح کے اندر قرآن مجید سناتا ہے، اس میں اجرت وغیرہ کا کچھ تذکرہ نہیں کرتا ہے، بعد ختم قرآن قاری کی خاطر داری اور خوشی کے لئے، سامعین نے کچھ نقد وغیرہ اپنی خوشی سے زید کو عنایت کئے اب بعض علماء نے اس کو فقہاء رحمہم اللہ کے قاعدہ المعروف کالمشروط کی بناء پر اجرت میں شمار کر کے ناجائز قرار دیئے آیا یہ صحیح ہے یا نہیں، اور اگر صحیح ہے تو اگر کوئی حافظ کسی مسجد میں امام ہے، صرف رمضان شریف کیلئے پانچوں وقت نماز پڑھاتے ہیں اور تراویح میں قرآن بھی سناتے ہیں، اور اس امامت پر اجرت مقرر کرتے ہیں اجرت…
جواب
محض تراویح میں قرآن شریف سنا کر اجرت لینا نا جائز ہے، خواہ پہلے سے اجرت مقرر کی ہو یا بلا مقرر کئے ہوئے اجرت دی ہو، ہاں اگر پنجگانہ نماز کی امامت کرتا ہے اور اس کیلئے اجرت مقرر ہے اور رمضان شریف میں اسمیں کچھ اضافہ کر دیا جائے تو اصل اجرت امامت میں تو بفتویٰ متاخرین کوئی اشکال نہیں اور اس اضافہ میں بھی بظاہر گنجائش معلوم ہوتی ہے، کیونکہ یہ اضافہ اسی شئی کے تابع ہے، جو جائز ہے،…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔