ختم قرآن پر مٹھائی
سوال
عام طور سے قرآن پاک کا ختم کیا جاتا ہے، اور بعد میں شیرینی تقسیم کی جاتی ہے اس میں بعض حفاظ ایسے بھی شریک ہوتے ہیں جنہیں اگر مٹھائی نہ ملے تو افسوس کرتے ہیں اور آئندہ آنے میں عذر کر دیتے ہیں، اس قسم کی قرآنی کہاں تک درست ہے؟
جواب
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ حفاظ شیرینی کو اپنا حق الخدمت یعنی اجرت قراءت تصور کرتے ہیں، اگر چہ اسکا نام اجرت نہ رکھیں اسلئے یہ صورت نا جائز ہے اگر چندہ کر کے تقسیم کی جائے تو اسمیں عموماً رعایت حدود نہیں کی جاتی، بلکہ کہیں جبر کی صورت ہوتی ہے کہیں ریا اور تفاخر کی، بعض دفعہ بچوں اور بڑوں کا مجمع ہوتا ہے، وہ شور و غل چھینا جھپٹی کرتے ہیں، بعض لوگ مٹھائی کے لالچ میں پیروں کی پاکی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔