نوافل کی جماعت رمضان میں
سوال
تہجد کی جماعت رمضان میں کر سکتے ہیں یا نہیں؟ جب کہ شامی جلد امصری ص ۵۲۷ کے اندر بعض عبارات سے پتہ چلتا ہے کہ مکروہ وبدعت ہے اور بعض عبارات سے پتہ چلتا ہے کہ صرف رمضان المبارک کی اجازت ہے، مثلا فی البدائع من قوله ان الجماعة في التطوع ليست بسنة الافی قیام رمضان اور تہجد بھی نوافل میں شمار ہے۔ پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما حضور اکرم ﷺ کی نفل میں شریک رہے ہیں، یعنی کان پکڑ کر داہنی طرف لانے والی روایات، تو ان سب عبارتوں سے اور بزرگان دین کے بعض افعال سے اجازت سمجھ میں آتی ہے۔
جواب
حنفیہ کا مذہب مختار یہ ہے کہ نوافل کی جماعت علی سبیل التداعی مکروہ ہے رمضان ہو یا غیر رمضان، حکم عام ہے۔ ایک دو مقتدی ہوں تو تداعی نہیں تین میں اختلاف ہے چار ہوں تو تداعی ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ایک ہی مقتدی تھے۔ بدائع کی جو عبارت شامی سے آپ نے نقل کی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔