الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

صلوٰۃ تسبیح جماعت کے ساتھ

سوال

(۱) صلوۃ تسبیح جماعت کیساتھ پڑھنا درست ہے یا نہیں؟ جب کہ پڑھانے والے کا مقصد صرف مقتدیوں کا اصرار بغرض تعلیم و ترکیب ہو؟ (۲) اگر شق ثانی مراد ہے تو امام اور مقتدیوں میں کس حد تک گناہ کے مرتکب ہیں؟ (۳) امام اور مقتدی کی صلوٰۃ التسبیح ہوگئی یا نہیں؟ جب کہ در مختار کی عبارت السنتہ نافلہ موجود ہے۔ اگر شق اولیٰ مراد ہو تو ثواب میں کچھ کمی ہو جائے گی یا ثواب برابر ملے گا؟ (۴) نماز تسبیح جماعت کیساتھ پڑھنے والوں کو بدعتی کہنا کیسا ہے؟ جبکہ وہ موحد ہوں۔

جواب

(۱) صلوة تسبیح جماعت کے ساتھ منقول ومشروع نہیں۔ (۲) التزام کے ساتھ ہو تو مکروہ ہے۔۔ (۳) کراہت کے ساتھ ہوگی۔ (۴) اگر وہ اس کی جماعت کو ثواب سمجھ کر کریں تو یہ بدعت بھی ہے اور مکر وہ بھی ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو