حضرت مدنی کا نوافل جماعت سے ادا کرنا
سوال
شیخ الاسلام حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ غالباً نوافل جماعت سے پڑھتے تھے چنانچہ مکتوبات جلد سوم ص ۲۱۶ پر مکتوب ۷۸ کے اخیر میں تحریر فرماتے ہیں (تراویح کے بعد) ایک بجے پھر نفلوں میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور پونے تین بجے فارغ ہوکر سحری میں مشغول ہو جاتے ہیں حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ کی تحریر سے پتہ چلتا ہے کہ شب میں نوافل با جماعت ادا فرماتے تھے اور لوگ مرشد کے پیچھے تبرکا و تیمنا پڑھتے تھے تو کیا حصول یمن و برکت کے لیے ایسا کر سکتے ہیں؟
جواب
مجھے اس کی أصل حقیقت معلوم نہیں لیکن حضرت مدنی کی نظر حدیث وفقہ پر پوری تھی اور وہ حتی الوسع سنت پر عمل فرماتے تھے ممکن ہے کہ وہ تنہا نوافل کی نیت کر کے قراءت بالجہر کرتے ہوں یا دو تین کو بھی اس میں شامل کر لیتے ہوں جس کی فقہاء کے کلام میں اجازت بھی ہے اس صورت میں تداعی نہیں اور یہ صورت مکروہ بھی نہیں، لو لم ينو الامامة لاكراهة على الامام فليحفظ اھ در مختار لان الكراهة انما…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔