الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نوافل میں ختم قرآن با جماعت

سوال

چند اشخاص کی خواہش تھی کہ نماز نفل میں ایک قرآن شریف ختم کیا جاوے حافظ نے بعد نماز مغرب وعشاء دو چار رکعت میں تھوڑا تھوڑا پڑھ کر قرآن شریف ختم کیا اس دوران میں ایک شخص نے ٹوکا کہ اس طرح درست نہیں۔ نفل نماز با جماعت درست نہیں۔ اس حالت میں فعل مذکور حافظ کا کیسا ہے؟

جواب

اگر امام کے علاوہ چار شخص یا زیادہ مقتدی تھے تو یہ عمل مکروہ ہے۔ اگر امام کے علاوہ صرف دو تین آدمی مقتدی تھے تو مکروہ نہیں، فی الطحطاوی علی مراقي الفلاح قال شمس الائمة الحلواني ان اقتدى به ثلاثة لا يكون تداعياً فلا يكره اتفاقا وان اقتدى به اربعة فالاصح الكراهة اه .

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو