الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

جماعت نفل على السبيل التداعى

سوال

(۱) ہمارے یہاں قصبہ اورنگ آباد میں رمضان کے مبارک مہینہ میں تہجد کی نماز، درود کے ساتھ باجماعت ادا کی جاتی ہے جسمیں تین آدمیوں سے زیادہ کافی آدمی ہوتے ہیں، (۲) رمضان کے مبارک مہینہ کی طاق راتوں میں تروایح ختم ہونے کے بعد نفل نماز با جماعت ادا کی جاتی ہے اور تین آدمیوں سے بہت زیادہ آدمی ہوتے ہیں تہجد کی نماز کا بھی ان طاق راتوں میں اعلان کیا جاتا ہے جسکی وجہ سے جماعت میں بہت زیادہ لوگ ہو جاتے ہیں۔ (۳)

جواب

(۱) ایسا کرنا مکروہ ہے۔ (۲) یہ بھی مکروہ ہے (۳) کتب فقہ در مختار وغیرہ میں بھی اسی طرح لکھا ہے۔ (۴) مکروہ ہے۔ (۵) دوام کے معنی ہمیشہ کے ہیں یعنی اتفاقیہ ایک دو دفعہ نہیں بلکہ ہمیشہ کیا جائے خواہ ایک ماہ تک ہمیشہ ہو۔ (۶) وہ کس دلیل کی بناء پر ایسا کہتے ہیں؟ کیا فقہ کی کسی کتاب میں ایسا لکھا ہے؟ کیا بعد مغرب و بعد عشاء کی سنت بھی جماعت سے پڑھیں گے؟

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو