جہر وسر کی ادنی مقدار
سوال
نماز میں قراءت بالسر کی حد یہ ہے کہ کم از کم خود سنے صرف زبان سے ادا کرنا کافی نہیں۔ کذافی حاشیہ شرح الوقایہ۔ تو اس پر عرض یہ ہے کہ خود سننے سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ پاس کھڑا یہ بھی لازم آتا ہے کہ پاس ہونے والا بھی سنے، کیونکہ جو آواز اپنے کان میں آئے گی وہ پاس والے کو بھی پہونچے گی اور یہ جہر کا ادنی درجہ ہے۔ پس بندہ کو اشکال یہ ہے کہ سر جہر ہو گیا۔
جواب
یہ ضروری نہیں کہ اپنی جو آواز بھی خود سنتا ہو وہ دوسرا بھی سن لیا کرے۔ ہاں کوئی لفظ اگر پاس والا بھی سن لے تو یہ منافی سرنہیں۔ قالوا لا يضر اسماع بعض الكلمات احياناً لحديث ابي قتادة وهو في الصحيحين عن النبي ﷺ كان يقرأ في الركعتين الاخيرتين بفاتحة الكتاب ويسمعنا الآية احياناً ولان اليسير من الجهر والاخفاء لا يمكن الاحتراز عنه لاسيما عندمبادى التنفسات افادة فى الفتح وفى او اخر…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔