سری قراءت میں تیز اور جہری میں ٹھہرا کر پڑھنا
سوال
جو امام جماعت کی نماز سکون کے ساتھ پڑھتا ہو اور تنہا بہت جلد جلد پڑھتا ہو اس کی امامت پر کیا حکم ہے کیوں کہ بظاہر اس کا ظاہر و باطن ایک نہیں ایسے ہی اکثر امام قراءت والی دو رکعتوں میں تو قرآن شریف ترتیل کے ساتھ پڑھنے کی وجہ سے دیر تک پڑھتے ہیں اور باقی ایک یا دو رکعت بہت جلد پڑھتے ہیں بعض بعض تو اتنی جلدی پڑھتے ہیں کہ آدھی الحمد بھی کوئی مشکل سے پڑھ سکے کیا ایسے کی امامت بلا کراہت جائز ہے کیونکہ وہ عوام کی نماز خدا کے ہاں پیش کرنے کا وکیل ہے۔
جواب
آہستہ پڑھتے وقت جلد پڑھنا اور زور سے پڑھتے وقت ٹھہر کر پڑھنا ایسا فعل نہیں جس کی وجہ سے امامت نا جائز ہو۔ اگر چہ امام کو چاہئے دونوں طرح پڑھتے وقت قواعد وآداب قرآن شریف کی رعایت رکھے بحالت امامت سکون کے ساتھ پڑھنے اور بحالت انفراد جلد پڑھنے سے بھی امامت میں خرابی نہیں آتی اور اس وجہ سے اس کی نیت پر حملہ کرنا کہ اس کا ظاہر وباطن یکساں نہیں یہ بھی نا جائز ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔