تشریح اقرأ
سوال
(۱) اقرا قرآن مجید کے ۳۰ ویں پارے سے لیا گیا ہے اس کی تشریح کیجئے۔ کس علم سے تعلق رکھتا ہے۔ (۲) اقر آیہ فرض عین ہے یا فرض کفایہ ہے جو بھی صورت ہو اس کی آواز کس کو بلند کرنی چاہئے اور اس کا انتظام کس کو کرنا چاہئے اقرا کا امام اور مقتدی سے کیا تعلق ہے۔ (۳) اقرا کے جزوی انکار کرنے والے کو یا مکمل انکار کرنے والے کو کیا کہیں گے۔ (۴)
جواب
(۱) سب سے پہلے جب جبریل امین علیہ السلام وحی خداوندی لے کر آئے اس وقت مخصوص طور پر نبی اکرم ﷺ سے کہا گیا۔ اقرا، اس پر ارشاد فرمایا ما انا بقاری پھر بحکم الہی تدبیر کی جس سے وحی الہی کے پڑھنے پر قدرت حاصل ہو گئی۔ (۲) یہ خطاب نبی کریم ﷺ کے ساتھ مخصوص ہے جیسا کہ (۱) میں گذرا۔ اس کا تعلق امام یا مقتدی سے نہیں نہ اس سے نماز کی قرآت مراد ہے۔ (۳)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔