مدرس اور امام کی تنخواہ کی حیثیت
سوال
ائمہ مساجد اور مدرسین کی تنخواہیں چونکہ مقرر ہوتی ہیں اور قلیل بھی ہوتی۔ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ یہ حق الخدمت ہے۔ لیکن زید ایک عالم دین ہے، اس کا خیال ہے کہ یہ نفقہ ہے حق الخدمت نہیں ہے اور تعیین دفع نزاع کے لئے ہوتی ہے۔ کیا ان کا یہ کہنا درست ہے؟ اور اس تنخواہ کا لینا معاوضہ دین ہونے کی وجہ سے حرام ہے؟
جواب
اعلیٰ مقام تو یہ ہے کہ مدرسین اور ائمہ مساجد ان خدمات کو بلا معاوضہ ادا کریں اور نیت محض اللہ پاک کو راضی کرنا ہو مگر چونکہ ضروریات نفقہ واجبہ ان کے ذمہ بھی ہے اور ہر شخص کے پاس آمدنی کے ذرائع موجود نہیں۔ اگر یہ حضرات امامت وتدریس کی پابندی کرتے ہیں تو نفقات واجبہ کے ادا ہونے کی کوئی صورت نہیں۔ اگر نفقات واجبہ کی تحصیل میں مصروف ہوتے ہیں تو یہ خدمات معطل رہتی ہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔