امام کی تنخواہ اور کھانا حرام آمدنی سے!
سوال
بکر ایک مسجد میں امامت کرتا ہے اور اس کی تنخواہ مقرر ہے جو تنخواہ مسجد کے متولی بکر کو دیتے ہیں وہ چندہ وغیرہ کر کے دی جاتی ہے اور اس چندہ میں سود خور سے رشوت خور سے بھی چندہ لیا جاتا ہے۔ کیا اسے لوگوں سے چندہ بھی چندہ لیا جاتا ہے۔ کیا ایسے لوگوں سے چندہ لے کر پھر امام کو تنخواہ دینا کیسا ہے جب امامت کرنے میں تقویٰ کا زیادہ خیال رکھنا ضروری ہے پھر امام کو بھی تنخواہ لینا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
متعین طور پر جو شخص رشوت یا سود کی آمدنی امام یا مدرس کو دے خواہ روپیہ کی صورت میں ہو یا کھانے کی صورت میں ہو اس کا لینا حرام ہے اگر کسی کی آمدنی حلال وحرام دونوں قسم کی ہو مگر حلال آمدنی زیادہ ہو حرام کم ہو ایسی مخلوط آمدنی سے امام یا مدرس کو کھانا یا نقد دے تو ایسا لینا درست ہے اگر حرام زیادہ ہو حلال کم ہو تو لینا درست نہیں، ایسا آدمی اگر حلال سے دے مثلاً قرض لے کر یا اس کو…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔