امام کا دیر سے آنا اور تنخواہ لینا
سوال
زید ایک ادارہ میں ملازم ہے اور ایک مسجد میں امامت کرتا ہے امام صاحب کہتے ہیں کہ میں اوقات کی پابندی کی تنخواہ لیتا ہوں نماز پڑھانے کی نہیں لیتا ہوں، اکثر اوقات نماز میں دیر سے آتے ہیں، کیا امام صاحب کا اس طرح تنخواہ لینا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
اہل مسجد کی طرف سے اگر امام صاحب کو اس کی گنجائش دی گئی ہے اور اس تاخیر سے نا خوش نہیں ہیں تو امام صاحب کے لئے یہ تنخواہ درست ہے۔ ورنہ اس کا یہ طریقہ غلط ہے اس کی اصلاح کی ضرورت ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔