عوض دے کر چلہ میں جانے والے امام کی تنخواہ
سوال
زید تنخواہ مقررہ پر نماز پڑھاتا ہے اور وہ چالیس دن کے لئے تبلیغی جماعت میں چلا جاتا ہے اور کسی مقتدی سے کہہ جاتا ہے کہ تم میرے جانے کے بعد جماعت کی دیکھ بھال کرنا اور نماز جماعت پڑھا دیا کرنا۔ جواباً مقتدی کہتا ہے کہ اگر وقت پر آگیا تو نماز پڑھا دونگا ورنہ نہیں۔ چالیس دن بعد امام صاحب واپس آتے ہیں اور تنخواہ طلب کرتے ہیں مقتدی کہتے ہیں تو جواباً کہتے ہیں کہ میں اپنے عوض امام مقرر کر گیا تھا۔ عوض والے امام سے پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے فی سبیل اللہ نماز پڑھائی ہے، مجھ سے کوئی مطلب نہیں۔
جواب
امام نے جب اپنا عوض دے دیا خواہ اس سے روپے کا معاملہ کیا ہو یا نہ کیا ہو تو امام تنخواہ کا حقدار ہے اس کی تنخواہ دی جائے کذی فی البحر الرائق اس کے پیچھے نماز بھی درست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔