الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اُجرت پر نماز عید کی امامت

سوال

بعض علاقہ میں دستور ہے کہ عید کے روز خصوصیت سے عید ہی کی نماز پڑھانے کے لئے ایک امام مقرر کیا جاتا ہے۔ بلکہ بعض ائمہ اپنی اجرت متعین کر لیتے ہیں کہ مثلاً میں روپئے دو گے تو عید کی نماز پڑھاؤں گا اور بعض ائمہ اپنی اجرت تو مقرر نہیں کرتے مگر بعض مقتدی حسب وسعت امام کی خدمت میں کچھ نذرانہ پیش کرتے ہیں۔ اگر مقتدی روپیہ نہیں دیتے ہیں تو امام ناراض ہو جاتے ہیں اور یہ بھی دستور ہے کہ عید کے روز ہر شخص اپنے احباب وعزیزوں وبزرگوں کے ساتھ معانقہ ومصافحہ کرتے ہیں، عید کے روز مصافحہ کرنا شرعاً کیسا ہے؟

جواب

اس طرح امامت پر اجرت لینا نا جائز ہے۔ عید کا مصافحہ اور معانقہ جیسا کہ بعض جگہ رائج ہے، بدعت اور ممنوع ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو