الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

امام کے لئے مشاہرہ لینا!

سوال

ہمارے محلہ کی مسجد میں عرصہ دراز سے کوئی باضابطہ امام مقرر نہیں ہے جب کہ وقتی طور پر مناسب آدمی کی امامت میں فرض نمازیں ادا کی جاتی رہی ہیں اب مصلیان مسجد کے دو گروہ ہو گئے ہیں ایک گروہ کا کہنا ہے باضابطہ امام صاحب کا تقرر کیا جائے ان کو کچھ ماہانہ مشاہرہ دینا چاہئے دوسرے گروہ کا کہنا ہے کہ تنخواہ پانے والے امام کے پیچھے نماز جائز نہیں ہے اور چونکہ باپ دادا کے زمانے سے کوئی امام مقرر نہیں کیا گیا ہے اس میں کوئی شرعی مصلحت ہوگی، ایک گروہ کی جانب سے جس امام کی نشاندہی کی جارہی ہے ان کا ماضی نہایت قابل اعتراض ہے وہ…

جواب

اگر بغیر تنخواہ دار امام مقرر کئے ہوئے پنجگانہ نماز با جماعت مسجد میں ہوتی ہے اور بلا تنخواہ ایسا آدمی نماز پڑھاتا ہے جو کہ امامت کے قابل ہو اگر چہ وہ ایک شخص نہ ہو بلکہ متعدد آدمی ہوں کہ کبھی کسی نے نماز پڑھا دی اور کبھی کسی نے اور اس میں کوئی دشواری نہ ہوتی ہو تو پھر تنخواہ دار امام مقرر کرنے کی ضرورت نہیں البتہ تعلیم وتدریس کے لئے مدرس مقرر کیا جائے تا کہ دینی تعلیم دے سکے…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو