امام کی تنخواہ وقت پر نہ ملے تو
سوال
امام صاحب جن کو ختم ماہ پر ایک دو روز بعد نمازی تنخواہ دیدیتے ہیں مگر پھر بھی امام صاحب کہتے ہیں کہ تم نے نماز ادھار پڑھی ہے ماہ ختم ہوتے ہی تنخواہ ملنی چاہئے۔ کیا امام صاحب کا یہ قول درست ہے؟
جواب
نماز یا امامت کوئی دوکانداری اور تجارتی پیشہ یا کمائی کا پیشہ نہیں ہے۔ ضرورت شرعیہ کی بناء پر تنخواہ کو مجبوراً جائز قرار دیا گیا ہے۔ امام کو ایسا نہیں کہنا چاہئے۔ مقتدیوں کو بھی خیال رکھنا چاہئے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔