امام سے معاہدہ غیر حاضری کی تنخواہ وضع نہ کی جائے درست ہے
سوال
امام صاحب کو ان کی امامت کا معاوضہ مسجد کے فنڈ سے ادا کیا جاتا ہے، لیکن امام ہر ماہ تقریباً ایک چوتھائی اوقات میں تشریف نہیں لاتے، مقتدیوں کے اعتراض پر مہتمم نے مقتدیوں کو کچھ سمجھا بجھا کر طے کر لیا ہے کہ اگر ایک ماہ میں ۲۰ وقت یا اس سے کم نہ آویں، تو ان کی پوری تنخواہ میں سے جو مسجد فنڈ سے ادا کی جاتی ہے کچھ وضع نہ کیا جائے، اگر ۲۰ وقت سے زائد غیر حاضری ہو تو وضع کیا جائے، کیا یہ معاہدہ جائز ہے؟
جواب
اس طرح معاملہ بھی درست ہے، مقتدی غنیمت سمجھ کر اس پر رضامند ہو جائیں، مہتمم صاحب سے درخواست کریں کہ وہ ان کی غیر حاضری کا صحیح اندازہ کرنے کا انتظام کر دیں، مدرسہ کے ملازمین کے لئے حاضری کا رجسٹر ہوتا ہے، جس سے صحیح علم ہو جاتا ہے
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔