تنخواہ دار امام کی امامت
سوال
کسی مسجد کے پیش امام صاحب ایک دینی مدرسہ میں مدرس بھی ہیں اکثر اوقات پابندی وقت سے مسجد میں تشریف نہیں لاتے۔ مزدور پیشہ لوگ پریشان ہوتے ہیں ایک روز بوقت عصر نمازیوں نے ان کو ٹوکا تو انہوں نے برجستہ انگلیوں کی طرف روپیہ کا اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مدرسہ میں ۱۰۰ روپیہ ملتا ہے اور یہاں مسجد میں کیا حالانکہ ۲۵ روپیہ ملتا ہے دوسال سے وہ خدمت کر رہے ہیں۔ کیا اس قسم کا جواب ان کی شان کے لائق ہے اسی وجہ سے ان کے پیچھے نماز ادا کرنے سے نمازیوں کو کراہت ہوتی ہے۔
جواب
ایسا جواب امام صاحب کی شان کے لائق نہیں مقتدیوں کو بھی امام صاحب کے تاخیر سے آنے پر اس طرح نہیں ٹوکنا چاہئے جو ان کی شان کے خلاف ہو ان کو اپنا تنخواہ دار ملازم نہ سمجھیں، نماز پڑھانے کا معاوضہ اس دنیا میں کوئی نہیں دے سکتا ۲۵ روپیہ ماہوار جو دیا جاتا ہے وہ ہرگز معاوضہ امامت نہیں بلکہ بہت معمولی خدمت ہے اتنی سی بات سے غصہ ہو کر امام صاحب کے پیچھے نماز پڑھنا نہ چھوڑیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔