امام اور قاضی کی تنخواہ کا معیار!
سوال
(۱) میں اپنے یہاں کی مسجد میں امام ہوں اور قاضی بھی دین کا کام فی سبیل اللہ عرصہ سے کرتا آرہا ہوں نیز گاؤں میں ایک عالی شان مسجد اور کنواں بھی تعمیر کروا دیا ہے۔ مگر اب میں مجبور اور ضعیف ہو گیا ہوں، گاؤں کے لوگ میری مجبوری کو دیکھتے ہوئے تنخواہ دینے کو تیار ہیں تو کیا چندہ کی رقم سے گھر کے اخراجات کے لئے تنخواہ لینا درست ہے۔ (۲) سفیر امام عالم کو اندازا کتنا روپیہ لینا چاہئے ضرور تحریر فرمائیں؟
جواب
آپ نے اتنی مدت تک خدمت کی ہے حق تعالیٰ اجر عظیم سے نوازے اور آپ کی تنگ دستی دور کرے۔ جو چندہ مسجد وغیرہ کے لئے کرتے ہیں اس میں سے آپ اپنے خرچ کے لئے نہ لیں، ہاں آپ کو یہ حق ہے کہ اہل مسجد سے کہدیں کہ پہلے مجھے ضرورت نہیں تھی تنخواہ کی اب مجھے ضرورت ہے اس لئے تنخواہ دی جائے اہل مسجد کو بھی چاہئے وہ مناسب تنخواہ مقرر کر دیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔