الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تدریس وامامت کی قلیل تنخواہ میں اضافہ پر طنز آمیز مطالبہ

سوال

زید ایک مسجد کا امام ہے اور بچوں کو تعلیم بھی دیتا ہے ۷۵ ار روپے ماہوار تنخواہ ملتی ہے چند ماہ بعد زید نے تمام نمازیوں کو یہ حکم دیا کہ باری باری ہر فرد مجھے کھانا بھیج دیا کرے ورنہ نے وہ سچا مومن نہیں ہو سکتا، مزید اس نے بچوں کا داخلہ بند کر دیا جس کی وجہ سے بچوں کی تعلیم پر اثر پڑ رہا ہے تو کیا زید اور اس کے حامیوں کی اطاعت از روئے شرع واجب ہے یا نہیں؟ (۲) جو لوگ امام صاحب کی اس بات پر حامی نہیں ان کو سوقیانہ الفاظ سے یاد کرتے ہیں، کیا یہی اسلامی شعار ہے؟

جواب

امام موصوف کو ایسا اعلان نہیں کرنا چاہئے اس قسم کی وعید سنانے کا حق نہیں۔ جب معاملہ ۱۷۵ روپیہ ماہانہ پر ہوا ہے کھانا شرط نہیں تھا تو اب ایسا طریقہ اختیار کرنا غلط ہے۔ غلط بات کو تسلیم نہ کرنے سے ایمان میں فرق نہیں آئے گا بچوں کی تعلیم کا انتظام ضروری ہے۔ (۲) بلا وجہ شرعی کسی کے لئے سوقیانہ الفاظ اختیار کرنا درست نہیں ہے۔ یہ ہرگز اسلامی شعار نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو