الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

غلط خواں امام کے پیچھے نماز

سوال

آج کل مساجد کے پیش امام حضرات قرآن شریف نماز کی حالت میں غلط پڑھتے ہیں مثلاً کہیں الف زیادہ کر دیتے ہیں یا کہیں سے حذف کر دیتے ہیں اور بھی دوسرے حروف کسی دوسرے حرف کی جگہ پڑھ دیتے ہیں قریب المخرج ہونے کی وجہ سے حتیٰ کہ سورہ فاتحہ میں غیر المغضوب عليهم ولا الضالین کے (ض) کو ادا کرنے میں ایسا تکلف برتتے ہیں کہ وہ (د) کی آواز معلوم ہوتی ہے جو نہ دال ہی میں شمار ہو سکتا ہے نہ ضاد میں ان تمام صورتوں میں نماز کا کیا حکم ہے صحیح ہوتی ہے یا نہیں؟

جواب

علم کی کمی اور غلبہ جہل کی وجہ سے فقہاء نے بہت سے مسائل میں تسہیل فرمائی ہے ان میں زلۃ القاری بھی ہے اعراب وحروف کی ادائیگی میں تغیر ہونے کی وجہ سے معنی کو درست کرنے کی بہت کوشش کی اور دور دور کی تاویل کر کے نماز کو فساد سے بچایا ہے، پس اگر کسی غلطی کی وجہ سے معنی بگڑ جائیں اور درست نہ ہو سکیں تو فساد نماز کا حکم ہوگا اگر صحیح پڑھنے والا موجود ہو تو ایسی صورت میں غلط پڑھنے…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو